ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / گدگ کے لکشمیشور میں پولس حراست میں ٰایک شخص کی موت کے بعد عوام نے پولس تھانہ کو ہی پھونک دیا؛ امتناعی احکامات نافذ

گدگ کے لکشمیشور میں پولس حراست میں ٰایک شخص کی موت کے بعد عوام نے پولس تھانہ کو ہی پھونک دیا؛ امتناعی احکامات نافذ

Mon, 06 Feb 2017 01:20:59    S.O. News Service

گدگ 5ْفروری (ایس او نیوز؍ایجنسی) شمالی کرناٹک کے ضلع گدگ کے لکشمیشور میں عوام نے اُس وقت توڑپھوڑ شروع کردی اور پولس تھانہ کو آگ لگادی جب ریت کی اسمگلنگ کے نام پر گرفتار کئے گئے ایک شخص کی پولس لاک آپ میں موت واقع ہوگئی۔ مشتبہ حالت میں موت کی اطلاع ملتے ہی لوگوں نے تھانے کو گھیر لیا اور برہم ہجوم نے پولس تھانے میں توڑپھوڑ مچانے کے بعد آگ لگادی۔ برہم ہجوم کا غصہ دیکھ کر تھانے میں موجود پولس عملے کو وہاں سے راہ فرار اختیار کرنا پڑا۔

ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق گذشتہ رات لکشمیشورپولس نے غیر قانونی طوپر ریت لے جانے کے الزام میں 21 سالہ  ٹرک ڈرائیور شیوپا گانا کیرے کو گرفتار کرکے اُسے جیل میں بند کردیا تھا، مگر آج اتوار کو حیرت انگیز طور پر شیوپا جیل میں ہی مشتبہ حالت میں مردہ پایا گیا۔ پولس کے مطابق انہوں نے پہلے یہ سمجھا کہ وہ بے ہوش ہے، مگر جب اس کی جانچ کی گئی تو پتہ چلا کہ وہ فوت ہوچکا ہے۔ پولس نے شیوپا کے گھروالوں کو اس کی موت کی خبر دی اور بتایا کہ اس کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی ہے، مگر گھروالوں کو شیوپا کے مرنے کی اطلاع ملتے ہی وہ مشتعل ہوگئے اور پولس پر الزام لگایا کہ اس کی موت دل کا دورہ پڑنے سے نہیں بلکہ پولس کے ٹارچر سے ہوئی ہے۔ گھروالوں نے محلہ والوں کو واقعے کی جانکاری دی تو عوام کی کثیر تعداد جمع ہوکر پولس کے خلاف مشتعل ہوگئی جنہوں نے پولس تھانہ پہنچ کر تھانے کا گھیراؤ کیا۔ شیوپا کی پولس تھانہ میں ہوئی موت کی خبر آناً فاناً میں پورے شہر میں پھیل گئی اور کئی ٹریکٹروں میں بھر بھر کر سینکڑوں دیہاتی پولس تھانہ پہنچ گئے، پہلے انہوں نے تھانہ پر پتھراؤ کیا، کھڑکیاں اور دروازوں کو توڑ ڈالا، پھر پولس تھانہ کے اندر گھس کر سازوسامان کو نقصان پہنچانے کے بعد پولس تھانہ کو ہی آگ لگادی۔ عوام نے پولس کی گاڑیوں کو بھی نذر آتش کیا۔ عوام کے اچانک مشتعل ہوکر پولس تھانہ پر حملہ آور ہونے سے پولس کے دستے بھی ڈر کر موقع پر سے فرار ہونے میں ہی اپنی عافیت سمجھی۔ 



اعلیٰ پولس حکام کو واقعے کی اطلا ع ملتے ہی گدگ سے ریزرو پولس کے دستے لکشمیشور پہنچے جنہوں نے پولس تھانہ کے اطراف جمع ہجوم کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج شروع کردیا۔ گدگ کے ڈی وائی ایس پی وجئے ڈمبلا اور گدگ کے سرکل پولس انسپکٹر سمیت ضلع کے دیگر علاقوں کے پولس بھی واقعے کی خبر ملتے ہی جائے وقوع پر پہنچ گئے اور حالات پر قابو پانے کی کوشش کی۔ اس موقع پر احتجاجیوں نے شیوپا کی لاش کو تھانے کے سامنے رکھ دیا اور وہیں پر دھرنے پر بیٹھ گئے۔ احتجاجیوں کا کہنا تھاکہ پولس اس بات کو قبول کرے کہ شیوپا کی موت لاک آپ ڈیتھ ہے، پھر خاطی پولس اہلکاروں کو گرفتار کرے اور اُنہیں سزادیں۔ پولس تھانہ کے باہر ہنگامے کی اطلاع پھیلتے ہی دکانیں اور کاروباری ادارے بند کردئے گئے اور شہر کچھ لمحوں کے اندر سنسان ہوگیا۔ تعلقہ انتظامیہ نے حالات پر مکمل طور پر قابو پانے کے لئے پورے علاقہ میں امتناعی احکامات جاری کردئے ہیں۔ اس دوران ضلع کے ڈپٹی کمشنر منوج کمار اور ایس پی سنتوش بابو نے مظاہرین کو یقین دلایا کہ وہ لکشمیشور پی ایس آئی دیوانند کو ملازمت سے معطل کریں گے۔ اس موقع پر ایس پی رشی کرشنا نے کہا کہ اگر فوت ہونے والے شیوپا کے والدین شکایت درج کریں گے تو خاطی پولس والوں کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ شیوپا کی موت کے تعلق سے جانچ جاری ہے، پوسٹ مارٹم کی رپورٹ بھی آنی باقی ہے جس کے بعد ہی خاطیوں کے خلاف کاروائی کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے عوام الناس سے اپیل کی کہ وہ امن و امان کی فضا بحال رکھیں ۔

آخری اطلاع ملنے تک پورے لکشمیشور میں حالات کشیدہ تھے اور پولس کا سخت بندوبست کیا گیا تھا۔اس دوران اس بات کی بھی اطلاع موصول ہوئی ہے کہ شیوپا کی موت پر پولس تھانہ میں قتل کا معاملہ درج کرلیا گیا ہے اور سی آئی ڈی کو اس کی موت کی چھان بین کا حکم دیا گیا ہے۔ پولس کے سنیر حکام نے بتایا کہ پی ایس آئی کو معطل کردیا گیا ہے اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار کیاجارہا ہے جس کے بعد ہی ضروری کاروائی آگے بڑھائی جائے گی۔


Share: